میرے دادا ابو، برگیڈیئر صدیق سالک، شہید کی یادیں · 17 اگست 1988 دادا ابو کی شہادت کے چار برس بعد میں اس دنیا میں آئی۔ انہیں کبھی دیکھنے یا ان سے ملنے کا موقع نہیں ملا، مگر عجیب بات ہے کہ ان کی موجودگی کو ہمیشہ اپنے آس پاس محسوس کیا۔ شاید کچھ رشتے ملاقات کے محتاج نہیں ہوتے؛ وہ ہمیں ورثے میں ملتے ہیں اور پھر عمر بھر ہمارے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ میرے دادا ابو، برگیڈیئر صدیق سالک، 17 اگست 1988 کو بہاولپور کے فضائی حادثے میں شہید ہوئے۔ وہ ایک سینئر فوجی افسر، سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر، معروف مصنف اور پاکستان کی عسکری و ادبی دنیا کا ایک نمایاں نام تھے۔ بہت سے لوگوں کے لیے وہ ایک فوجی افسر، قلم کار اور قومی شخصیت تھے۔ میرے لیے، وہ ہمیشہ دادا ابو رہے۔ ان کے نام کے ساتھ جڑی عزت، محبت اور احترام کو میں نے وقت کے ساتھ سمجھا۔ بچپن میں اپنے نام کے ساتھ آنے والی اس پہچان کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ ہر نئے تعلیمی سال میں تعارف کے دوران کوئی “سالک” سن کر رک جاتا، پھر پوچھتا، “برگیڈیئر سالک؟” اور چہرے پر ایک خاص سی مسکراہٹ آجاتی۔ میں اس تاثر کو سمجھ نہیں پاتی تھی۔ اساتذہ میری زبان اور ادب کے پرچے دیکھ کر کہتے، “ادبی جراثومہ تم میں ہے۔” تب یہ بات میرے لیے صرف ایک جملہ تھی۔ آج سوچتی ہوں تو شاید وہ میرے اندر […]